26 جنوری، 2026، 5:59 PM

مہر نیوز کی خصوصی رپورٹ:

دنیا ’’بادشاہ‘‘ کے خلاف صف آرا؛ ٹرمپ کی آمریت کے خلاف عالمی بغاوت کے آثار

دنیا ’’بادشاہ‘‘ کے خلاف صف آرا؛ ٹرمپ کی آمریت کے خلاف عالمی بغاوت کے آثار

ٹرمپ کے خود ساختہ بادشاہی دعوؤں، یک قطبی عالمی نظام اور طاقت کی سیاست نے یورپ سمیت دنیا کو امریکہ کے خلاف متحد ہونے پر مجبور کر دیا۔

مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: دنیا تیزی سے خود ساختہ بادشاہ کے خلاف محاذ کھینچتی دکھائی دے رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی ابھرتی ہوئی عالمی آمریت کے ساتھ ہی مختلف ممالک ایک تاریخی اور جرات مندانہ بغاوت کی سمت بڑھ رہے ہیں۔

جنوری کے ابتدائی دنوں میں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان کے اراکین سے ملاقات کے دوران خود کو بادشاہ قرار دیا تو اس بات میں کوئی شبہ باقی نہ رہا کہ وہ خود کو ایک عالمی آمر کے طور پر پیش کررہے ہیں۔ اس خود ساختہ لقب کے چند ہی دن بعد بعض اعلیٰ یورپی حکام نے امریکہ سے فاصلہ اختیار کرنے کی ضرورت پر سرگوشیاں شروع کردیں۔

ڈیووس میں ٹرمپ کا جارحانہ لہجہ

ڈیووس ورلڈ اکنامک فورم میں ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات غیر معمولی طور پر سخت اور اشتعال انگیز تھے۔ ان بیانات میں انہوں نے بالواسطہ یا بلاواسطہ طور پر دنیا کے کئی ممالک کو ہدفِ تنقید بنایا، جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ وہ عالمی سیاست کو تعاون اور باہمی مشاورت کے بجائے طاقت کے بل پر چلانا چاہتے ہیں۔ ٹرمپ کے مؤقف سے یہ بات واضح نظر آتی ہے کہ وہ کثیرالجہتی عالمی نظام کے قائل نہیں، بلکہ ایک ایسے یک قطبی نظام کے حامی ہیں جس میں فیصلہ سازی کا مرکز صرف امریکہ ہو، اور اس کی قیادت خود ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھ میں ہو۔

انہوں نے بین الاقوامی اداروں اور عالمی معاہدوں کو غیر مؤثر قرار دیتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ دنیا کے معاملات اصولوں اور قوانین سے نہیں بلکہ طاقت اور دباؤ کے ذریعے طے ہونے چاہئیں۔ ناقدین کے مطابق یہ سوچ عالمی استحکام کے لیے خطرناک ہے، کیونکہ اس سے کمزور ممالک کے حقوق مزید پامال ہونے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔

ڈیووس ہی میں ٹرمپ نے کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی کو بھی نشانہ بنایا۔ انہوں نے اپنے ذاتی سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر لکھا کہ اگر کینیڈا یہ سمجھتا ہے کہ وہ چینی مصنوعات کے لیے امریکہ کو ایک ڈمپنگ گراؤنڈ بنا دے گا تو یہ ایک سنگین غلط فہمی ہے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب کینیڈا حال ہی میں چین کے ساتھ ایک بڑے تجارتی معاہدے پر دستخط کر چکا ہے۔

اس صورتحال پر ردعمل دیتے ہوئے کینیڈین وزیر اعظم مارک کارنی نے مایوسی کا اظہار کیا اور کہا کہ دنیا میں قانون کی حکمرانی بتدریج کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق طاقتور ممالک اپنی مرضی مسلط کر رہے ہیں، جبکہ کمزور ممالک کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑ رہا ہے۔ یہ بیان دراصل اس بڑھتے ہوئے عالمی خدشے کی عکاسی کرتا ہے کہ اگر طاقت ہی فیصلے کا واحد معیار بن گئی تو عالمی نظام عدم توازن اور بے یقینی کا شکار ہو جائے گا۔

گرین لینڈ پر قبضے کی دھمکی اور یورپ کی پریشانی

یورپی یونین کے رہنما، گرین لینڈ پر قبضے کے لیے ٹیرف بڑھانے کی ٹرمپ کی بلیک میلنگ سے پریشان اور اس نتیجے پر پہنچتے دکھائی دیتے ہیں کہ اب ٹرمپ پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ بریسلز میں ہونے والے اجلاس کے موقع پر پولینڈ کے وزیر اعظم ڈونلڈ ٹسک نے امریکی طرز عمل کو غلبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے امریکی قیادت کو قبول کیا، مگر آج ہمیں غلبے اور جبر نہیں بلکہ باہمی اعتماد اور احترام کی ضرورت ہے۔ ڈنمارک کی وزیر اعظم فریڈرکسن نے بھی خبردار کیا کہ اگر ٹرمپ نے خودمختار ڈینش علاقے گرین لینڈ پر حملہ کیا تو یہ نیٹو کے خاتمے کے مترادف ہوگا۔

غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کے آغاز کے ساتھ ہی ٹرمپ کی عالمی آمریت مزید واضح ہوگئی۔ سلامتی کونسل میں روس اور چین کے ویٹو کی وجہ سے ناکامی کے بعد ٹرمپ نے اقوام متحدہ کو نظرانداز کرتے ہوئے تقریبا 20 ممالک پر مشتمل ایک نام نہاد امن کونسل قائم کی۔ اس عمل میں انہوں نے یورپی تجاویز کو رد کیا، فلسطینی علاقوں میں دو ریاستی حل کی مخالفت کی، طاقت کے ذریعے امن کا نعرہ لگایا اور حماس کو مکمل غیر مسلح کرنے پر زور دیتے ہوئے غزہ کے انتظام، تعمیر نو اور سیکیورٹی کو صرف امریکہ کی ذمہ داری قرار دیا۔

یہ اقدامات اس تاثر کو مزید تقویت دیتے ہیں کہ امریکہ اقوام متحدہ کی جگہ ایک ایسا نیا ادارہ قائم کرنا چاہتا ہے جو مکمل طور پر اس کے تابع ہو۔ اس سے قبل امریکہ عالمی ادارۂ صحت اور یونیسکو سے علیحدگی اختیار کرچکا ہے اور فلسطین کی حمایت کرنے والے اداروں کو کمزور کرچکا ہے۔

عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور نئے بلاکس کی تشکیل کی راہ ہموار

وینزویلا کے صدر کا اغوا، اس ملک کے تیل وسائل پر کھلے عام قبضے کی خواہش، ایران میں دہشت گردوں کی کھلی حمایت اور یوکرین میں نفع و نقصان کی بنیاد پر امن کا تصور، یہ سب عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور قومی خودمختاری کو پامال کرنے کی واضح مثالیں ہیں۔ یہی رویہ دنیا بھر میں تشویش اور بادشاہ کے خلاف صف بندی کا سبب بن رہا ہے۔

اسی پس منظر میں یورپی حکام ونسٹن چرچل کے اس قول سے رہنمائی لیتے دکھائی دیتے ہیں کہ ’’کسی قیمتی بحران کو ضائع نہ ہونے دو۔‘‘ یورپ اس بحران کو ایک موقع سمجھ رہا ہے کہ وہ امریکہ کی یک طرفہ پالیسیوں کے خلاف مشترکہ موقف اختیار کرے اور عالمی سطح پر اپنی خودمختاری اور مفادات کو مضبوط کرے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ امریکہ کے دباؤ کے بغیر بھی یورپی ممالک اپنے فیصلے خود کر سکیں اور عالمی معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کریں۔

اگرچہ یورپ کے اندرونی اختلافات اور مفادات کی ٹکراؤ اس راہ میں بڑی رکاوٹ ہیں، لیکن اگر یہ سوچ عملی شکل اختیار کر گئی تو دنیا میں کثیرالجہتی محاذ کو نئی طاقت مل سکتی ہے۔ اس صورت میں عالمی نظام میں طاقت کے بجائے مذاکرات، قوانین اور باہمی احترام کی بنیاد پر فیصلے ہوں گے، اور کمزور ممالک پر دباؤ کم ہونے کے ساتھ عالمی امن و استحکام میں بھی بہتری ممکن ہوگی۔

News ID 1937905

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha